Codex Gigas Book In Urdu [hot] -

کوڈیکس گیگاس: شیطان کی بائبل کا راز (The Devil's Bible)

اگر آپ نے کبھی دنیا کی سب سے عجیب اور پراسرار کتاب کے بارے میں سنا ہے تو وہ ہے کوڈیکس گیگاس۔ لاطینی زبان میں اس نام کا مطلب ہے "دیو قامت کتاب"۔ یہ کتاب نہ صرف اپنے بے پناہ سائز کے لیے مشہور ہے بلکہ اس کے ساتھ جڑی ایک خوفناک لیجنڈ کی وجہ سے بھی اسے "شیطان کی بائبل" (Devil's Bible) کہا جاتا ہے۔

یہ مضمون اردو قارئین کے لیے اس کتاب کی تاریخ، اس کے اندر موجود شیطان کی تصویر، اور اس سے منسوب عجیب و غریب داستانوں پر روشنی ڈالے گا۔

مشاہدہ اور دیکھنے کے مشورے

Codex Gigas کی تاریخی اہمیت

یہ کتاب صدیوں تک مختلف جگہوں پر رہی:

اسے عوام کے لیے صرف خاص مواقع پر ہی ڈسپلے کیا جاتا ہے، کیونکہ روشنی اور نمی اس کے نازک صفحات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

کوڈیکس گوڈس (شیطانی بائبل): دنیا کا سب سے بڑا پراسرار مخطوطہ

تعارف: کوڈیکس گوڈس (Codex Gigas) دنیا کا سب سے بڑا موجودہ قرون وسطیٰ کا مخطوطہ (Manuscript) ہے۔ اسے عام طور پر "شیطانی بائبل" (The Devil's Bible) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کتاب اپنی بھاری جسمانی ساخت اور ایک عجیب و غریب تصویر کی وجہ سے مشہور ہے۔

کتاب کی خصوصیات:

پرانا قصہ (داستان): اس کتاب کے پیچھے ایک مشہور افسانہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ راہب (Herman the Recluse) نے کسی جرم کی سزا کے طور پر زندہ دیوار میں چنوائے جانے کا حکم سنایا گیا۔ سزا ٹالنے کے لیے اس نے رات بھر میں دنیا کی سب سے بڑی کتاب لکھنے کا وعدہ کیا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ یہ ناممکن کام رات بھر میں پورا نہیں کر سکتا، تو اس نے شیطان سے مدد مانگی۔ شیطان نے کتاب لکھنے میں اس کی مدد کی اور بدلے میں راہب نے شیطان کی تصویر کتاب میں بنا دی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے "شیطانی بائبل" کہا جاتا ہے۔

شیطان کی تصویر: کتاب کی سب سے حیران کن بات اس میں بنایا گیا شیطان کا بڑا اور رنگین نقشہ ہے۔ یہ تصویر کتاب کے تقریباً درمیان میں ہے اور شیطان کو ایک بڑے، خوفناک اور سبز رنگ کے ہیولے کی طرح دکھایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصویر کا مقصد لوگوں کو برائی سے ڈرانا تھا، لیکن اس کے باوجود یہ کتاب جادو ٹونے اور شیطانی قوتوں سے منسوب کر دی گئی۔

موجودہ حالت: آج

کوڈیکس گیگاس (Codex Gigas) دنیا کے پراسرار ترین اور دیوہیکل ترین تاریخی مسودات میں سے ایک ہے۔ اسے عام طور پر "شیطان کی بائبل" (Devil's Bible) کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ تیرہویں صدی عیسوی کا ایک ایسا مکتوب ہے جو اپنے سائز، مواد اور اس سے جڑی خوفناک داستانوں کی وجہ سے صدیوں سے انسانوں کے لیے شدید تجسس کا باعث بنا ہوا ہے۔

تاریخی پس منظر اور خوفناک لوک داستان

کوڈیکس گیگاس تیرہویں صدی کے اوائل میں بوہیمیا (موجودہ چیک جمہوریہ) کی ایک خانقاہ میں لکھا گیا۔ اس کتاب کے وجود میں آنے کے پیچھے ایک انتہائی خوفناک اور دلچسپ کہانی مشہور ہے۔ روایت ہے کہ ایک راہب (Monk) نے خانقاہ کے اصولوں کی شدید خلاف ورزی کی جس کی سزا کے طور پر اسے زندہ دیوار میں چن دینے کا حکم سنایا گیا۔

اپنی جان بچانے اور اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے، اس راہب نے خانقاہ کے عمائدین سے یہ وعدہ کیا کہ وہ محض ایک رات کے اندر ایک ایسی کتاب لکھے گا جس میں دنیا بھر کا علم سمویا جائے گا اور جو اس خانقاہ کو ہمیشہ کے لیے امر کر دے گی۔ جب آدھی رات گزر گئی اور راہب کو احساس ہوا کہ وہ اکیلا یہ کام مکمل نہیں کر سکتا، تو اس نے مبینہ طور پر خدا کے بجائے شیطان سے مدد مانگی۔ شیطان نے اس مکتوب کو ایک رات میں مکمل کرنے کی شرط کے طور پر اپنی تصویر کتاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ صبح ہونے پر کتاب تیار تھی اور اسی وجہ سے اس کے ایک صفحے پر شیطان کی ایک بڑی تصویر بنی ہوئی ہے جو قرون وسطیٰ کے کسی اور مکتوب میں نہیں ملتی۔ مکتوب کی جسمانی ساخت اور حجم

لفظ "Codex Gigas" کا لاطینی زبان میں مطلب "دیوہیکل کتاب" ہے۔ یہ دنیا میں قرون وسطیٰ کا سب سے بڑا اور محفوظ ترین مسودہ ہے۔ اس کی مادی خصوصیات درج ذیل ہیں:

وزن اور لمبائی: اس کتاب کا وزن تقریباً ۷۵ کلوگرام (۱۶۵ پاؤنڈ) ہے۔

جہامت: یہ کتاب ۹۲ سینٹی میٹر (۳۶ انچ) لمبی اور ۵۰ سینٹی میٹر (۲۰ انچ) چوڑی ہے۔

کاغذ اور چمڑا: اسے بنانے کے لیے ۱۶۰ گدھوں کی کھال سے تیار کردہ چمڑا (Vellum) استعمال کیا گیا ہے۔

صفحات: اصل میں اس میں ۳۲۰ صفحات تھے جن میں سے کچھ صفحات بعد میں غائب کر دیے گئے۔ کتاب کا علمی مواد

اگرچہ اسے شیطان کی بائبل کہا جاتا ہے، لیکن یہ ایک خالصتاً مذہبی اور علمی انسائیکلوپیڈیا ہے۔ یہ کتاب مکمل طور پر لاطینی زبان میں لکھی گئی ہے اور اس میں درج ذیل موضوعات شامل ہیں:

۱. مقدس بائبل: اس میں پرانا اور نیا عہد نامہ (Old and New Testament) دونوں شامل ہیں۔۲. طبی نسخے: اس دور کے امراض اور ان کے علاج کے قدیم طریقے اور جادوئی تعویذات کے خاکے موجود ہیں۔۳. تاریخی دستاویزات: اس میں بوہیمیا کی مکمل تاریخ اور دیگر تاریخی واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔۴. توبہ اور عبادات: راہبوں کے لیے گناہوں کے اعتراف اور توبہ کے طریقے بھی تحریر ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق

جدید سائنسدانوں اور ماہرینِ خطاطی نے جب اس مسودے کا باریک بینی سے معائنہ کیا تو انہوں نے چند حیرت انگیز انکشافات کیے۔ ہینڈ رائٹنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری کتاب میں ایک ہی شخص کا طرزِ تحریر استعمال ہوا ہے اور روشنائی کی یکسانیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک ہی انسان کا کام ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر کوئی انسان دن رات مسلسل بغیر رکے بھی لکھے، تب بھی اس کتاب کو مکمل کرنے میں کم از کم ۵ سال کا عرصہ درکار ہوگا، جبکہ عام حالات میں اسے لکھنے میں ۲۰ سے ۳۰ سال کا وقت لگ سکتا تھا۔ یہ سائنسی حقیقت آج بھی اس لوک کہانی کو تقویت دیتی ہے کہ اتنی بڑی کتاب اتنی ہم آہنگی کے ساتھ کیسے وجود میں آگئی۔ خلاصہ

کوڈیکس گیگاس صرف ایک کتاب نہیں بلکہ قرون وسطیٰ کے انسان کی سوچ، خوف، مذہب اور علم کا ایک بہترین عکس ہے۔ چاہے یہ شیطان کی مدد سے لکھی گئی ہو یا کسی گوشہ نشین راہب کی زندگی بھر کی محنت کا نچوڑ ہو، یہ مکتوب انسانی تاریخ کے عظیم ترین عجائبات میں شمار ہوتا ہے۔ آج یہ نایاب کتاب سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں واقع نیشنل لائبریری آف سویڈن میں انتہائی سخت سیکیورٹی میں محفوظ ہے۔ codex gigas book in urdu

کیا آپ اس کتاب کی تاریخی سفر یا اس کے غائب شدہ صفحات کے پراسرار نظریات کے بارے میں مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہیں؟

نتیجہ: ایک معمہ جو قائم ہے

چاہے آپ اسے سائنسی نظر سے دیکھیں یا مافوق الفطرت، کوئیکس گیگاس انسانی تاریخ کی ایک منفرد تخلیق ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان علم کے حصول کے لیے کتنی انتہا کو جا سکتا ہے۔

شیطان کی تصویر تو صرف ایک پرانی سیاہی ہے، لیکن اس کتاب کے بارے میں لوگوں کا خوف اور تجسس آج بھی اتنا ہی شدید ہے جتنا 800 سال پہلے تھا۔

کیا یہ واقعی شیطان کی کتاب ہے؟ یا کسی انتھک راہب کی عظیم محنت؟ شاید یہ راز ہمیشہ کے لیے انہی پیلے اور پرانے صفحات میں دفن رہے گا۔


اگر آپ خود دیکھنا چاہیں تو National Library of Sweden کی ویب سائٹ پر جا کر "Codex Gigas" سرچ کریں۔ مکمل کتاب مفت آن لائن موجود ہے۔

The Mysterious Codex Gigas: A Review of the Devil's Bible in Urdu

I recently had the opportunity to explore the Codex Gigas, a medieval manuscript also known as the Devil's Bible, in Urdu. This enigmatic book is shrouded in mystery, and its dark history has captivated scholars and enthusiasts alike for centuries.

What is the Codex Gigas?

The Codex Gigas is a 13th-century manuscript written in Latin, but its Urdu translation allows a wider audience to experience its eerie contents. This massive tome, measuring 9 x 12 inches and weighing over 200 pounds, is considered one of the most mysterious and intriguing books in the world.

The Dark History

Legend has it that the Codex Gigas was written by a monk who made a pact with the devil to complete the manuscript in just one night. The monk, who was imprisoned for his crimes, allegedly included a detailed illustration of the devil himself, along with other dark and ominous content.

The Urdu Translation

The Urdu translation of the Codex Gigas offers a unique perspective on this ancient text. The language is rich and evocative, bringing to life the medieval world of the original manuscript. Readers will be transported to a time of superstition and fear, where the lines between good and evil were often blurred.

Key Features

Conclusion

The Codex Gigas, or Devil's Bible, in Urdu is a must-read for anyone interested in history, mystery, and the occult. Its dark and intriguing content will captivate readers, offering a glimpse into a bygone era of superstition and fear. While the book's history and significance are undeniable, readers should be warned: the Codex Gigas is not for the faint of heart.

Rating: 4.5/5 stars

Recommendation: For fans of historical mysteries, occult studies, and those interested in exploring the darker side of human history.

While a complete text-to-text Urdu translation of the entire Codex Gigas does not currently exist due to its massive size and use of medieval Latin, there are several high-quality Urdu resources and summaries that provide a comprehensive guide to its history, legends, and physical features. Essential Guide to Codex Gigas (The Devil's Bible)

Codex Gigas Full English Translation - sciphilconf.berkeley.edu

نتیجہ: حقیقت یا افسانہ؟

Codex Gigas book in Urdu کے متلاشی افراد کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کتاب شیطان کی طرف سے لکھی گئی ذاتی بائبل نہیں ہے۔ یہ ایک انسانی علامت ہے کہ خوف، مذہب، عقیدت اور خطرہ کیسے ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔

یہ کتاب ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان مذہب سے بھی زیادہ کسی چیز سے خوف کھاتا ہے: نامعلوم کا خوف۔ شیطان کی تصویر کے باوجود، Codex Gigas درحقیقت خدا کی عظمت اور انسان کی کمزوری کی عکاس ہے۔ اگر آپ اصل دیکھنا چاہتے ہیں تو اس

چاہے آپ اسے تاریخی دستاویز سمجھیں یا جادوئی کتاب، Codex Gigas آج بھی دنیا کی سب سے قیمتی اور پراسرار کتابوں میں سے ایک ہے۔ اگر آپ کو پراسرار کہانیاں پسند ہیں، تو یہ کتاب آپ کے لیے "شیطان کا تحفہ" ہے۔

آخر میں: کیا راہب نے واقعی شیطان سے معاہدہ کیا تھا؟ جواب آپ کو صرف اس کتاب کے صفحات میں ملے گا، جو آج بھی سویڈن میں خاموش پڑی ہے، شیطان کی مسکراتی ہوئی تصویر کے ساتھ۔


دیگر مضامین: اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا تو "قدیم مخطوطات کے راز" یا "تاریخ کی سب سے بڑی کتابیں" کے بارے میں بھی پڑھیں۔


تحریر: [آپ کا نام/بلاگ کا نام] ماخذ: سویڈش نیشنل لائبریری، ہسٹری چینل، The Codex Gigas Project.

Here’s a review of the Codex Gigas (often called the Devil’s Bible) specifically looking at resources available in the Urdu language—whether books, articles, or online summaries.


نتیجہ (Conclusion)

کوڈیکس گیگاس صرف ایک کتاب نہیں ہے۔ یہ انسانی جرات، مذہبی عقیدے، اور شیطانی افسانوں کا ایک سنگم ہے۔ چاہے یہ شیطان کی بنائی ہوئی ہو یا کسی انتھک راہب کی محنت کا نتیجہ، یہ کتاب آج بھی دنیا کے سب سے بڑے پراسرار دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔

اگر آپ کبھی اسٹاک ہوم جائیں تو رائل لائبریری میں جا کر اس دیو قامت شیطان کو اپنی آنکھوں سے ضرور دیکھیں۔


کیا آپ کو معلوم تھا؟ (Did you know?) اس کتاب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس نے بھی اسے پڑھنے کی کوشش کی، اس پر لعنت ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق، جس گھر میں یہ کتاب رکھی جاتی تھی، وہاں پر چوہے، کیڑے یا آگ سے نقصان ہوتا تھا، یہی وجہ ہے کہ اسے لوہے کی زنجیروں سے جکڑ کر رکھا جاتا تھا۔

کوڈیکس گیگاس (Codex Gigas) ، جسے عام طور پر " شیطان کی بائبل

" (Devil's Bible) کے نام سے جانا جاتا ہے، قرونِ وسطیٰ کا سب سے بڑا اور پراسرار ترین قلمی نسخہ ہے۔ یہ عظیم الشان کتاب نہ صرف اپنی ضخامت کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہولناک داستانیں اور اس میں موجود شیطان کی ایک بڑی تصویر اسے دنیا کے عجائبات میں شامل کرتی ہے۔

ذیل میں اس کتاب کی تاریخ، بناوٹ اور اس سے وابستہ دلچسپ حقائق پر مبنی ایک جامع مضمون پیش ہے: کوڈیکس گیگاس: تاریخ اور پسِ منظر

یہ نسخہ تیرہویں صدی (تقریباً 1204ء سے 1230ء کے درمیان) میں بوہیمیا (موجودہ چیک جمہوریہ) کے ایک بینڈکٹائن راہب خانے (Podlažice Monastery) میں تیار کیا گیا تھا۔ لاطینی زبان میں "Codex Gigas" کا مطلب "عظیم کتاب" (Giant Book) ہے۔ تیس سالہ جنگ (1648ء) کے دوران سویڈش فوج نے اسے مالِ غنیمت کے طور پر حاصل کیا، اور آج یہ سویڈن کی نیشنل لائبریری، اسٹاک ہوم میں محفوظ ہے۔ کتاب کی حیرت انگیز جسامت

یہ کتاب دنیا کے سب سے بڑے قلمی نسخوں میں سے ایک ہے:

وزن: اس کا وزن تقریباً 75 کلوگرام (165 پاؤنڈ) ہے۔

لمبائی: یہ تقریباً 3 فٹ (92 سینٹی میٹر) لمبی اور 20 انچ چوڑی ہے۔

صفحات: اس کی تیاری کے لیے تقریباً 160 گدھوں یا بچھڑوں کی کھال (Vellum) استعمال کی گئی، جس سے اس کے 320 صفحات تیار ہوئے (جن میں سے 8 سے 12 صفحات پراسرار طور پر غائب ہیں)۔ شیطان کی بائبل کی لیجنڈ (داستان)

اس کتاب کے بارے میں سب سے مشہور داستان یہ ہے کہ اسے ایک ایسے راہب نے لکھا تھا جسے اپنے گناہوں کی پاداش میں دیوار میں زندہ چنوا دینے کی سزا سنائی گئی تھی۔ اپنی جان بچانے کے لیے اس نے وعدہ کیا کہ وہ ایک ہی رات میں ایسی کتاب لکھے گا جو پوری دنیا کے علم کو سمیٹ لے گی۔ جب وہ آدھی رات تک کام مکمل نہ کر سکا، تو اس نے شیطان سے مدد مانگی اور اپنی روح کے بدلے یہ کام مکمل کروایا۔ کہا جاتا ہے کہ شکریہ کے طور پر اس نے کتاب کے 290ویں صفحے پر شیطان کی ایک بڑی تصویر بنائی۔

کوڈیکس گیگاس (Codex Gigas)، جسے دنیا بھر میں "شیطان کی بائبل" (Devil's Bible) کے نام سے جانا جاتا ہے، قرون وسطیٰ کی سب سے بڑی اور پراسرار ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ کتاب اپنی غیر معمولی جسامت، قدیم تاریخ اور اس کے گرد گھومتی خوفناک داستانوں کی وجہ سے اردو دان طبقے میں بھی کافی مقبول ہے۔ کوڈیکس گیگاس کی تاریخ اور تخلیق

یہ قدیم مخطوطہ 13ویں صدی کے آغاز (تقریباً 1204 سے 1230 کے درمیان) میں موجودہ چیک جمہوریہ (Bohemia) کی ایک خانقاہ "پوڈلازیس" (Podlažice) میں تیار کیا گیا تھا۔ ایک مشہور روایت کے مطابق، اس کا مصنف "ہرمن" (Herman the Recluse) نامی ایک راہب تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اس راہب نے خانقاہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کی تھی، جس کی سزا کے طور پر اسے زندہ دیوار میں چنوا دیا جانا تھا۔ اپنی جان بچانے کے لیے اس نے وعدہ کیا کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھے گا جو دنیا کا تمام علم سمیٹے گی اور اسے محض ایک رات میں مکمل کرے گا۔ جب اسے احساس ہوا کہ یہ ناممکن ہے، تو اس نے شیطان سے مدد مانگی اور اپنی روح کے بدلے یہ کتاب مکمل کروائی۔ کتاب کی جسامت اور بناوٹ

وزن: اس کتاب کا وزن تقریباً 75 کلوگرام (165 پاؤنڈ) ہے۔

پیمائش: اس کی لمبائی 36 انچ (3 فٹ) اور چوڑائی 20 انچ ہے۔ ثقافتی اور لٹریری اثر

صفحات: اس میں اصل میں 320 صفحات تھے، جن میں سے کچھ اب ضائع ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان صفحات کی تیاری کے لیے تقریباً 160 گدھوں یا بچھڑوں کی کھال استعمال کی گئی تھی۔

زبان: یہ مکمل طور پر لاطینی (Latin) زبان میں لکھی گئی ہے، تاہم اس میں کچھ عبرانی الفاظ بھی ملتے ہیں۔ کتاب کے مندرجات

نام کے برعکس، یہ صرف "شیطانی" تحریروں پر مبنی نہیں ہے۔ اس میں درج ذیل مضامین شامل ہیں:

کوڈیکس گیگاس (Codex Gigas)، جسے عام طور پر "شیطانی بائبل" (Devil's Bible) بھی کہا جاتا ہے، دنیا کا سب سے بڑا اور پراسرار قرونِ وسطیٰ کا قلمی نسخہ ہے۔ اردو زبان میں اس کتاب کی تاریخ اور اس سے جڑے حقائق کا خلاصہ نیچے دیا گیا ہے: تاریخی پس منظر

یہ عظیم الشان کتاب 13ویں صدی کے اوائل (تقریباً 1204ء سے 1230ء کے درمیان) میں موجودہ چیک جمہوریہ (Bohemia) کی ایک خانقاہ میں لکھی گئی۔ یہ مکمل طور پر لاطینی زبان میں لکھی گئی ہے۔ کتاب کی انوکھی خصوصیات

جسامت اور وزن: یہ کتاب تقریباً 3 فٹ لمبی ہے اور اس کا وزن 165 پاؤنڈ (تقریباً 75 کلوگرام) ہے۔ اسے اٹھانے کے لیے کم از کم دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

مواد: اس میں پوری بائبل کے علاوہ تاریخی تحریریں، جادوئی فارمولے، جن نکالنے (exorcisms) کے طریقے اور طبی نسخے شامل ہیں۔

پراسرار پینٹنگ: اس کتاب کی سب سے مشہور بات اس کے ایک صفحے پر موجود شیطان کی بڑی تصویر ہے، جس کی وجہ سے اسے "شیطانی بائبل" کہا جاتا ہے۔ مشہور افسانہ (Legend)

ایک قدیم روایت کے مطابق، ایک راہب نے اپنی سزا سے بچنے کے لیے یہ عہد کیا کہ وہ ایک ہی رات میں ایک ایسی کتاب لکھے گا جو دنیا بھر کے علم کا احاطہ کرے گی۔ جب اسے احساس ہوا کہ وہ یہ کام اکیلا نہیں کر سکتا، تو اس نے مبینہ طور پر شیطان سے مدد مانگی، جس نے ایک رات میں یہ کتاب مکمل کر دی۔ موجودہ مقام

آج کل یہ کتاب سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں نیشنل لائبریری آف سویڈن (National Library of Sweden) میں محفوظ ہے۔ گمشدہ صفحات

اس کتاب کے اصل میں 620 صفحات تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے آخری 12 صفحات کاٹ دیے گئے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان صفحات میں ایسی خفیہ معلومات تھیں جنہیں عام کرنا خطرناک سمجھا گیا۔

کیا آپ اس کتاب کے جادوئی فارمولوں یا اس کی ڈیجیٹل کاپی کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں؟

کوڈیکس گیگاس (Codex Gigas)، جسے دنیا بھر میں "شیطانی بائبل" (Devil's Bible) کے نام سے جانا جاتا ہے، قرون وسطیٰ کا سب سے بڑا اور پراسرار ترین قلمی نسخہ ہے۔ یہ عظیم الشان کتاب 13ویں صدی کے آغاز میں موجودہ جمہوریہ چیک (Bohemia) کے ایک چھوٹے سے خانقاہ "پوڈلازائس" (Podlažice) میں لکھی گئی۔

کتاب کی غیر معمولی جسامت اور بناوٹ

لاطینی زبان میں "کوڈیکس گیگاس" کا مطلب ہے "وشال کتاب" یا "دیو قامت کتاب"۔ اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

وزن اور پیمائش: اس کتاب کا وزن تقریباً 75 کلوگرام (165 پاؤنڈ) ہے۔ اس کی لمبائی 36 انچ (تقریباً 3 فٹ)، چوڑائی 20 انچ اور موٹائی 9 انچ ہے۔

صفحات: اس کے اصلی نسخے میں 320 صفحات (برگ) تھے، جن میں سے 12 صفحات پراسرار طور پر غائب ہیں۔

تیاری: ماہرین کے مطابق اس کے صفحات تیار کرنے کے لیے 160 سے زائد گدھوں یا بچھڑوں کی کھال کا استعمال کیا گیا۔ شیطانی بائبل کی مشہور روایت

اس کتاب کو "شیطانی بائبل" کہنے کی سب سے بڑی وجہ اس کے صفحہ نمبر 290 پر موجود شیطان کی ایک مکمل قد آور تصویر ہے، جو قرون وسطیٰ کی کسی بھی کتاب میں موجود شیطان کی سب سے بڑی تصویر مانی جاتی ہے۔

اس تصویر سے ایک مشہور لوک داستان منسوب ہے کہ ایک راہب (Monk) نے اپنی خانقاہ کے قوانین توڑنے پر موت کی سزا سے بچنے کے لیے یہ عہد کیا کہ وہ ایک ہی رات میں ایسی کتاب لکھے گا جو تمام انسانی علم کا احاطہ کرے گی۔ جب وہ ادھی رات تک کام مکمل نہ کر سکا تو اس نے شیطان سے مدد مانگی اور اپنی روح کے بدلے یہ کام مکمل کروایا۔ تاہم، جدید سائنسی تحقیق اور خطاطی کے تجزیے سے ثابت ہوا ہے کہ یہ پوری کتاب ایک ہی شخص نے لکھی ہے، لیکن اسے مکمل کرنے میں کم از کم 20 سے 30 سال لگے ہوں گے۔ کتاب کے مندرجات

یہ کتاب صرف ایک مذہبی متن نہیں بلکہ اس دور کا ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس میں درج ذیل مضامین شامل ہیں: Go to product viewer dialog for this item. Codex Gigas


ثقافتی اور لٹریری اثر